تشکل شہید عارف الحسینی اصفہان کا تعارف| ویکی پدیا فارسی

تشکل شہید عارف الحسینی اصفہان کا تعارف

جمہوری اسلامی ایران کے تعلیمی ادارے جامعہ المصطفی العالمیہ کی ایران کے ثقافتی شہر اصفہان میں شاخ کھلنے پر قدیم روایتوں کو دوست رکھنے والے افراد کی کثرت نے علامہ باقر مجلسی علیہ الرحمۃ کے جائے مدفن اصفہان کی طرف رخ کرنا شروع کیا ۔ جامعہ المصطفی کے اداری نظام نے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلاب کی نئی پذیرش اصفہان میں ہی کرنا شروع کی اور اس وقت دیگر ممالک کے طلاب کی طرح پاکستانی طلاب کی بھی ایک بڑی تعداد اصفہان میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔
اصفہان میں پاکستانی طلاب کی بڑھتی ہوئی تعداد نے چند دوستوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے پاکستان کی طرح اصفہان میں بھی موجودہ طلاب کو نظریہ قیادت کی چھتری تلے جمع کیا جائے تاکہ طلاب کرام اس تعلیمی نرسری سے بھرپور مستفید ہو کر آئندہ عملی میدان میں علماء کرام اور قیادت عظمی کے عظیم سپاہی بن سکیں ۔ پس اسی نظریہ کی تکمیل کے لئے اصفہان میں موجود نظریہ قیادت سے وابستہ طلاب نے قم المقدسہ کے پاکستانی بزرگان کی سربراہی و مشورت کیساتھ تشکل شہید عارف حسین الحسینی اصفہان کی بنیاد رکھی ۔ کہ جو یہاں پر موجود طلاب کرام کی تعلیمی ۔ فکری نظریاتی رہنمائ کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں بھی ایک مددگار و معاون ثابت ہوا ہے ۔تشکل شہید عارف الحسینی نے طلاب کو نہ صرف علمی فکری بلکہ عملی طور پر بھی ابھارا ہے اسکے علاوہ تشکل نے محرم الحرام اور دوسرے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے. اور ہمیشہ سے تشکل کی یہ کوشش رہی ہے کہ دوسروں کو ساتھ ملا کے چلا جائے.
تشکل کے اغراض و مقاصد
1۔ پاکستانی طلّاب کو آپس میں یکجا کرنا
تشکل شہید عارف الحسینی کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہےکہ پاکستان میں موجودہ قائد محترم آیۃ اللہ سید ساجد علی نقوی کے ہم افکار و ہم نظریہ طلاب کو متفق و متحد رکھتے ہوئےقیادت کے اس عظیم کارواں کے لیے راہ ہموار کی جائے۔
2۔ طلّاب کی مشکلات کو حل کرنا
تشکل شہید عارف الحسینی سے پہلے جدید آنے والے طلاب کا کوئی پرسان حال نہ تھا. اس لیے طلاب کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تشکل نے ایک نیا شعبہ جدید آنے والے طالب علموں کیلے متعارف کروایا کہ جسکا کام صرف طلاب کا دفتری کام کروانا تھا اور یہ شعبہ اردو زبان پاک و ہند کے طلاب کے علاوہ دوسرے ممالک کے برادران کی راہنمایی میں بھی کوشاں رہا ہے اور اکثر اوقات تو مسئول تشکل (سید علی جعفر شمسی) بذات خود طلاب کی مشکلات کے حل میں کوشاں نظر آتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مریض طلاب کی عیادت انکو ہسپتال میں لے جانا بھی شعبہ امور طلاب کی ذمہ داری رہی ہے۔
3۔ طلاب کے لیے تقریری کلاسز کا اہتمام
اہل علم کو آگےتشنگان علم تک علم پہنچانے کے لیے بھی ایک ہنر کا ہونا ضروری ہے اس کے لیے مشق کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اس مشق کے لیے بھی تشکل شہید عارف الحسینی کی طرف سے اس میدان کو ہموار کیاگیا اور سال بھر طلاب اس مشقی کلاس سے مستفید ہو کر خود کو مبلغین راہ حق میں شامل کرتے ہیں۔
4۔ طلاب کے لیے کامپیوٹر کلاسز
طلاب دینی کو آج صرف و نحو اور فقہ کے ساتھ ساتھ اس ترقی یافتہ دور میں کامپیوٹر جیسی چیزوں کی تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے جس کی طرف حتیٰ پاکستانی مدارس میں بھی توجہ نہیں دی جاتی تشکل نے برادران کے لیے اس مشکل کو فری کلاسز کی صورت میں رفع کرنے کی کوشش کی ہے جس سے طلاب بہرہ مند ہوئے ہیں اور انشااللہ آئندہ بھی ہوتے رہیں گےاور اس کے ساتھ ساتھ گرمیوں کی چٹھیوں میں خوشخطی جیسی کلاسز کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔

5۔ طلاب کے لیے علمی مسابقات مہیا کرنا

سال بھر میں حد اقل ۲ بار علمی مسابقہ برگزار کرنا اور کامیاب برادران کو تشکل کی طرف سے انعامات سے نواز کر حوصلہ افزائی کرنے کا سلسلہ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
6۔ آئمہ معصومین علیھم السلام کی ولادت و شہادت کی مناسبتوں پر مجالس و محافل کا انعقاد
قم و مشہد المقدس میں تو زائرین و طلاب کی کثیر تعداد کے باعث ولادت و شہادت آئمہ علیہم السلام کی مناسبت سے پروگرامز منعقد ہوتے اور مومنین مستفید ہوتے رہتے ہیں لیکن اصفہان میں پاک وہند کی ثقافت پر مبنی پروگرامز کا انعقاد تشکل شہید عارف الحسینی کا امتیاز رہا ہے۔
7۔ پاکستان سے آئی تنظیمی و مذہبی شخصیات سے استفادہ کی غرض سے اصفہان میں مدعو کرنا
شعبہ خدمت زائرین قم المقدس کے مسئول جناب ناصر عباس نقوی انقلابی صاحب کی خلوص نیتی پر مبنی بلا معاوضہ تعاون کے نتیجہ میں تشکل شہید عارف الحسینی کے برادران پاکستان سے آئی ہوئی معزز تنظیمی شخصیتوں سے وقتاً فوقتاً استفادہ کرتے رہے ہیں اور اپنے آپ کو سر زمین پاکستان میں موجودہ مشکلات اور ان کے حل کے لیے قائد محترم کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اب تک برادران تشکل علامہ شہنشاہ حسین نقوی صاحب اور علامہ ناظر عباس تقوی صاحب صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل سندہ سے مستفید ہو چکے ہیں۔